حدیث ۳۷۰۷

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۳۷۰۷

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ وَاصِلِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ أَبِي سَوْرَةَ , عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ , قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذَا السَّلَامُ , فَمَا الِاسْتِئنَاسُ ؟ قَالَ : " يَتَكَلَّمُ الرَّجُلُ تَسْبِيحَةً , وَتَكْبِيرَةً , وَتَحْمِيدَةً , وَيَتَنَحْنَحُ , وَيُؤْذِنُ أَهْلَ الْبَيْتِ " .

´ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سلام تو ہمیں معلوم ہے، لیکن «استئذان» کیا ہے؟ (یعنی ہم اجازت کیسے طلب کریں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «استئذان» یہ ہے کہ آدمی تسبیح، تکبیر اور تحمید (یعنی «سبحان الله، الله أكبر، الحمد لله» کہہ کر یا کھنکار کر) سے گھر والوں کو خبردار کرے“۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں