حدیث ۵۲۵

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۵۲۵

قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ مَعْقِلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْمِصْرِيُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ الشَّافِعِيَّ عَنْ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ ، وَيُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ ، وَالْمَاءَانِ جَمِيعًا وَاحِدٌ ؟ قَالَ : " لِأَنَّ بَوْلَ الْغُلَامِ مِنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ ، وَبَوْلَ الْجَارِيَةِ مِنَ اللَّحْمِ وَالدَّمِ ، ثُمَّ قَالَ لِي : فَهِمْتَ ، أَوْ قَالَ : لَقِنْتَ ، قَالَ : قُلْتُ : لَا ، قَالَ : إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمَّا خَلَقَ آدَمَ ، خُلِقَتْ حَوَّاءُ مِنْ ضِلْعِهِ الْقَصِيرِ ، فَصَارَ بَوْلُ الْغُلَامِ مِنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ ، وَصَارَ بَوْلُ الْجَارِيَةِ مِنَ اللَّحْمِ وَالدَّمِ ، قَالَ : قَالَ لِي : فَهِمْتَ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ لِي : نَفَعَكَ اللَّهُ بِهِ " .

´ابوالیمان مصری کہتے ہیں کہ` میں نے امام شافعی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث  «يرش من الغلام، ويغسل من بول الجارية»  بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جائے اور بچی کا پیشاب دھویا جائے کے متعلق پوچھا کہ دونوں میں فرق کی کیا وجہ ہے جب کہ پیشاب ہونے میں دونوں برابر ہیں؟ تو امام شافعی نے جواب دیا: لڑکے کا پیشاب پانی اور مٹی سے بنا ہے، اور لڑکی کا پیشاب گوشت اور خون سے ہے، اس کے بعد مجھ سے کہا: کچھ سمجھے؟ میں نے جواب دیا: نہیں، انہوں نے کہا: جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا، تو ان کی چھوٹی پسلی سے حواء پیدا کی گئیں، تو بچے کا پیشاب پانی اور مٹی سے ہوا، اور بچی کا پیشاب خون اور گوشت سے، پھر مجھ سے پوچھا: سمجھے؟ میں نے کہا: ہاں، اس پر انہوں نے مجھ سے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے نفع بخشے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں