سنن ابن ماجہ حدیث ۹۲۱ - امام کے سلام کا جواب دینے کی اہمیت
امام کے سلام کا جواب دینا کیوں ضروری ہے؟
سنن ابن ماجہ : ۹۲۱
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۹۲۱
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ فَرُدُّوا عَلَيْهِ " .
سمرہ بن جندب روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام سلام پھیرے تو تم اس کے سلام کا جواب دو“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۹۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں نماز جماعت کے ایک اہم ادب کو بتایا گیا ہے کہ جب امام نماز ختم کر کے سلام پھیرے تو مقتدیوں کو اس کے سلام کا جواب دینا چاہیے۔ اس سے جماعت میں نظم، احترام اور اتحاد قائم رہتا ہے۔ یہ عمل صرف ایک رسمی بات نہیں بلکہ اسلامی معاشرت میں ایک دوسرے کے حق کو ادا کرنے کا طریقہ ہے۔ نماز کے بعد سلام کا جواب دینا اس بات کی علامت ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور عبادت کے ماحول میں بھی ادب اور تعلق کو برقرار رکھتے ہیں۔ یہ چھوٹا سا عمل نماز کے بعد کے آداب (آدابِ نماز) میں شامل ہے اور امت کے درمیان محبت کو بڑھاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امام کے سلام کا جواب دینا نماز کے بعد کا ادب ہے
- مسلمانوں میں باہمی احترام اور تعلق مضبوط ہوتا ہے
- جماعتی نماز میں نظم اور اتحاد قائم رہتا ہے
