سنن ابن ماجہ حدیث ۹۲۲ - سلام پھیلانے کی سنت
سلام کو عام کرنا اسلامی معاشرت کی بنیاد ہے
سنن ابن ماجہ : ۹۲۲
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۹۲۲
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْقَاسِمِ ، أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، قَالَ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُسَلِّمَ عَلَى أَئِمَّتِنَا ، وَأَنْ يُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ " .
سمرہ بن جندب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اپنے اماموں کو اور باہم ایک دوسرے کو سلام کریں۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۹۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے امت کو یہ تعلیم دی کہ وہ اپنے اماموں کو بھی سلام کریں اور آپس میں بھی سلام کو عام کریں۔ سلام صرف ایک لفظ نہیں بلکہ یہ دعا ہے کہ اللہ تمہیں سلامتی دے۔ جب مسلمان ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں تو دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے اور نفرت ختم ہوتی ہے۔ امام کو سلام کرنا اس بات کی علامت ہے کہ دین میں کوئی شخص بھی احترام سے باہر نہیں۔ یہ عمل معاشرے میں عاجزی اور اخوت کو بڑھاتا ہے اور اسلامی معاشرت کو خوبصورت بناتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سلام پھیلانا ایمان اور محبت کو بڑھاتا ہے
- امام اور عوام سب کے لیے احترام ضروری ہے
- مسلمانوں کے درمیان نفرت کم ہوتی ہے
