سنن ابن ماجہ حدیث ۹۲۳ - امام کی امانت داری
امامت میں انصاف اور امانت کی اہمیت
سنن ابن ماجہ : ۹۲۳
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۹۲۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَؤُمُّ عَبْدٌ فَيَخُصَّ نَفْسَهُ بِدَعْوَةٍ دُونَهُمْ ، فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ " .
ثوبان روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص امامت کرے وہ مقتدیوں کو چھوڑ کر صرف اپنے لیے دعا کو خاص نہ کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان سے خیانت کی“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۹۲۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں امام کے کردار کی ذمہ داری کو واضح کیا گیا ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو شخص امامت کرے اسے چاہیے کہ وہ دعا میں صرف اپنے آپ کو خاص نہ کرے بلکہ مقتدیوں کو بھی شامل رکھے۔ اگر امام ایسا کرے تو یہ خیانت کے برابر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں قیادت صرف اختیار نہیں بلکہ امانت بھی ہے۔ امام کا فرض ہے کہ وہ سب کے لیے خیر مانگے اور کسی کو نظر انداز نہ کرے۔ یہ تعلیم ہمیں انصاف اور اجتماعی سوچ سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امامت ایک بڑی ذمہ داری اور امانت ہے
- دعا میں سب کو شامل کرنا ضروری ہے
- ذاتی فائدہ کو ترجیح دینا غلط ہے
