سنن ابن ماجہ حدیث ۹۲۴ - نماز کے بعد دعا اور ذکر
نماز کے بعد بیٹھ کر ذکر کرنا سنت ہے
سنن ابن ماجہ : ۹۲۴
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۹۲۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا سَلَّمَ لَمْ يَقْعُدْ إِلَّا مِقْدَارَ مَا يَقُولُ : اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ ، وَمِنْكَ السَّلَامُ ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو (اپنے مصلے پر قبلہ رو) اس قدر بیٹھتے جتنے میں یہ دعا پڑھتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» ”اے اللہ! تو ہی سلام ہے اور تیری جانب سے سلامتی ہے، اے بزرگی و برتری والے! تو بابرکت ہے“ ۱؎۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۹۲۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نماز کے بعد تھوڑی دیر بیٹھتے اور ایک خاص دعا پڑھتے تھے: اے اللہ! تو سلام ہے اور تجھ ہی سے سلامتی ہے۔ یہ عمل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ نماز کے فوراً بعد جلدی نہیں کرنی چاہیے بلکہ کچھ وقت اللہ کے ذکر میں گزارنا چاہیے۔ اس دعا میں اللہ کی صفات کا ذکر ہے جو دل کو سکون دیتا ہے۔ یہ عمل نماز کے بعد کے اذکار (اذکارِ نماز) میں شامل ہے اور بندے کو روحانی سکون عطا کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کے بعد ذکر کرنا سنت ہے
- اللہ کی صفات کا ذکر دل کو سکون دیتا ہے
- جلدی اٹھنے کے بجائے تھوڑا وقت بیٹھنا بہتر ہے
