صحیح مسلم حدیث ۱۰۱۳ - آخری دو رکعتوں میں فاتحہ
پچھلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۰۱۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۱۳
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ ، وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا ، وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " .
ابوقتادہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہَ فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے اور کبھی ایک آدھ آیت ہم کو سنا دیتے اور پچھلی دو رکعتوں میں صرف سورہَ فاتحہ پڑھتے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۰۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے۔ کبھی ایک آدھ آیت صحابہ کو سنائی دے جاتی تھی۔ پچھلی دو رکعتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف سورہ فاتحہ پڑھتے تھے۔ یہ روایت نماز کی قرأت کے بارے میں بہت صاف بیان دیتی ہے۔ اس میں پہلی دو رکعتوں اور پچھلی دو رکعتوں کے فرق کو بتایا گیا ہے۔ پہلی رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ ایک سورت، اور آخری رکعتوں میں صرف فاتحہ کا ذکر آیا ہے۔ اس سے ظہر و عصر کی قرأت کا نبوی طریقہ سمجھ آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے ساتھ سورت پڑھی جاتی تھی۔
- پچھلی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھنے کا ذکر ہے۔
- کبھی ایک آدھ آیت مقتدیوں کو سنائی دیتی تھی۔
- نماز کی رکعتوں میں قرأت کا فرق اس روایت سے واضح ہوتا ہے۔
