صحیح مسلم حدیث ۱۰۱۹ - نماز سکھانے پر سعد کا جواب
دیہاتی مجھے نماز سکھاتے ہیں؟ والی روایت
صحیح مسلم : ۱۰۱۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۱۹
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ ، وَزَادَ فَقَالَ : تُعَلِّمُنِي الأَعْرَابُ بِالصَّلَاةِ .
جابر بن سمرہ روایت:
اس سند سے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مذکورہ حدیثوں کی مانند آئی ہے مگر اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ دیہاتی مجھے نماز سکھاتے ہیں؟
صحیح مسلم حدیث ۱۰۱۹ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سابقہ حدیثوں کے معنی میں آئی ہے، مگر اس میں ایک جملہ زیادہ نقل ہوا ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیہاتی مجھے نماز سکھاتے ہیں؟ اس جملے کو اسی واقعہ کے ساتھ سمجھنا چاہیے جس میں کوفہ والوں نے نماز کے بارے میں شکایت کی تھی، اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مطابق نماز پڑھاتے ہیں۔ یہاں اصل موضوع نماز میں نبوی طریقے کی پیروی اور شکایت کے جواب میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے۔ چونکہ روایت میں یہی اضافہ آیا ہے، اس لیے تشریح بھی اسی حد تک رکھی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت سابقہ واقعہ کے معنی کو مزید الفاظ کے ساتھ بیان کرتی ہے۔
- سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اپنی نماز کو نبوی طریقے کے مطابق بتایا تھا۔
- شکایت کے موقع پر اصل عمل کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے جوڑا گیا۔
- حدیث کے اضافی الفاظ کو اسی واقعہ کے اندر سمجھنا چاہیے۔
