صحیح مسلم حدیث ۱۰۲۰ - ظہر کی پہلی رکعت لمبی

ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۲۰

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ العَزِيزِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَزْعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " لَقَدْ كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْبَقِيعِ ، فَيَقْضِي حَاجَتَهُ ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ يَأْتِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى ، مِمَّا يُطَوِّلُهَا " .

ابو سعید خدری روایت:

ظہر کی نماز کھڑی ہو جاتی تھی، پھر جانے والا بقیع کو جاتا اور حاجت سے فارغ ہو کر وضو کر کے آتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں ہوتے، اس قدر اس کو لمبا کرتے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۰۲۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ظہر کی نماز کھڑی ہو جاتی، پھر ایک شخص بقیع جاتا، اپنی حاجت سے فارغ ہوتا، وضو کرتا اور واپس آتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی پہلی رکعت میں ہوتے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت کو لمبا کرتے تھے۔ یہ روایت ظہر کی نماز میں پہلی رکعت کی لمبائی کو بہت واضح انداز میں بتاتی ہے۔ اس میں قرأت کی مقدار کو آیات کے عدد سے نہیں بلکہ ایک عملی اندازے سے بیان کیا گیا ہے۔ اصل موضوع یہ ہے کہ ظہر کی پہلی رکعت نسبتاً لمبی ہوتی تھی، جیسا کہ دوسری روایات میں بھی ظہر کی پہلی رکعت کے طویل ہونے کا مضمون آیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ظہر کی پہلی رکعت لمبی ہونے کا ذکر اس روایت میں صاف ہے۔
  • صحابہ نماز کے عمل کو بہت غور سے نقل کرتے تھے۔
  • اس حدیث میں رکعت کی لمبائی عملی اندازے سے بیان ہوئی ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ صحابہ کے مشاہدے سے محفوظ ہوا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں