صحیح مسلم حدیث ۱۰۲۱ - ظہر کی پہلی رکعت میں لمبی قرأت

ظہر کی نماز میں پہلی رکعت کی قرأت کا انداز

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۲۱

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَزْعَةُ ، قَالَ : " أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ ، قُلْتُ : إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلَاءِ عَنْهُ ، قُلْتُ : أَسْأَلُكَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا لَكَ فِي ذَاكَ مِنْ خَيْرٍ ، فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ ، فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ ، فَيَقْضِي حَاجَتَهُ ، ثُمَّ يَأْتِي أَهْلَهُ ، فَيَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْمَسْجِدِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى " .

قزعہ روایت:

میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو ان کے پاس بہت سے لوگ جمع تھے۔ جب سب چلے گئے تو میں نے کہا: میں تم سے وہ باتیں نہیں پوچھتا جو یہ لوگ پوچھتے تھے بلکہ میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھتا ہوں۔ انہوں نے کہا: اس کے پوچھنے میں تیری بھلائی نہ ہو گی (کیونکہ تو ویسی نماز نہ پڑھ سکے گا پھر کیا فائدہ) قزعہ نے دوبارہ یہی پوچھا۔ جب سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ظہر کی نماز کھڑی ہوتی اور ہم میں سے کوئی بقیع کو جاتا، اور حاجت سے فارغ ہو کر اپنے گھر آ کر وضو کرتا، پھر مسجد میں آتا، دیکھتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں ہوتے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۰۲۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی نماز کا ایک واضح حال بیان کرتے ہیں۔ قزعہ نے عام سوالوں کے بجائے خاص طور پر نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ ظہر کی نماز کھڑی ہوتی تو ایک شخص بقیع تک جاتا، اپنی حاجت پوری کرتا، گھر آ کر وضو کرتا، پھر مسجد واپس آتا، تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ابھی پہلی رکعت ہی میں ہوتے۔ اس سے ظہر کی قرأت اور پہلی رکعت کے وقت کا انداز سامنے آتا ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز میں سکون، ٹھہراؤ اور قرأت کا ایک خاص انداز تھا۔ حدیث ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز کے طریقے کو دھیان سے دیکھتے اور یاد رکھتے تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم کی ظہر کی پہلی رکعت میں قرأت نسبتاً لمبی ہوتی تھی۔
  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز کے طریقے کو سمجھنے کے لیے سوال کرتے تھے۔
  • نماز میں جلد بازی کے بجائے ٹھہراؤ کا پہلو اس روایت سے معلوم ہوتا ہے۔
  • حدیث میں صرف ظہر کی پہلی رکعت کے ایک عملی حال کو بیان کیا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں