صحیح مسلم حدیث ۱۰۲۲ - فجر میں سورۂ مؤمنون کی قرأت

فجر کی نماز میں سورۂ مؤمنون اور رکوع کا واقعہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۲۲

وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ سُفْيَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ المسيب العابدي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : " صَلَّى لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الصُّبْحَ بِمَكَّةَ ، فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ ، حَتَّى جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى ، وَهَارُونَ ، أَوْ ذِكْرُ عِيسَى ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، يَشُكُّ أَوِ اخْتَلَفُوا عَلَيْهِ ، أَخَذَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْلَةٌ ، فَرَكَعَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ حَاضِرٌ ذَلِكَ ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاق : فَحَذَفَ ، فَرَكَعَ ، وَفِي حَدِيثِهِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، وَلَمْ يَقُلْ : ابْنِ الْعَاصِ .

عبداللہ بن سائب روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز مکہ میں پڑھائی اور سورۂ مومنون شروع کی یہاں تک کہ موسیٰ اور ہارون علیہ السلام کا ذکر آیا، یا عیسیٰ علیہ السلام کا، شک ہے محمد بن عباد کو (جو اس حدیث کا راوی ہے) یا راویوں کا اختلاف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانسی لگی تو رکوع کر دیا۔ سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ اس وقت موجود تھے۔ عبدالرزاق کی روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرأت موقوف کر دی اور رکوع کر دیا۔

صحیح مسلم حدیث ۱۰۲۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے مکہ میں فجر کی نماز پڑھائی اور سورۂ مؤمنون شروع کی۔ قرأت جاری رہی یہاں تک کہ موسیٰ اور ہارون علیہما السلام یا عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر تک پہنچے۔ راوی کو اس جگہ شک ہے، اس لیے روایت میں بھی وہی شک بیان کیا گیا ہے۔ پھر نبی صلى الله عليه وسلم کو کھانسی آئی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے رکوع کر دیا۔ عبدالرزاق کی روایت کے مطابق آپ صلى الله عليه وسلم نے قرأت موقوف کی اور رکوع کیا۔ یہ حدیث فجر کی قرأت کے ایک خاص واقعے کو بتاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں نبی صلى الله عليه وسلم نے حالت کے مطابق قرأت ختم کر کے رکوع فرمایا۔ روایت میں جو شک آیا ہے، اسے بھی امانت سے نقل کیا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فجر کی نماز میں نبی صلى الله عليه وسلم نے سورۂ مؤمنون کی قرأت فرمائی۔
  • راوی نے جس جگہ شک تھا اسے صاف لفظوں میں بیان کیا۔
  • کھانسی آنے پر آپ صلى الله عليه وسلم نے قرأت روک کر رکوع فرما دیا۔
  • حدیث بیان کرنے میں امانت یہ ہے کہ شک کو یقین بنا کر نہ بتایا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں