صحیح مسلم حدیث ۱۰۳۶ - سورۂ طور کی دوسری سند

مغرب میں سورۂ طور: اسی روایت کی دوسری سند

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۳۶

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، قَالَ : ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ حدیث آئی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۰۳۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ پچھلی حدیث جیسی روایت اسی سند کے ساتھ ایک اور طریق سے بھی آئی ہے۔ پچھلی روایت کا مضمون یہ تھا کہ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۂ طور پڑھتے سنا۔ اس روایت کا مقصد اسی بات کو دوسری سند سے نقل کرنا ہے۔ اس میں کوئی نیا واقعہ یا الگ تفصیل بیان نہیں ہوئی، بلکہ اسی مضمون کی تائید کے طور پر سند کا فرق سامنے آتا ہے۔ حدیث پڑھتے وقت یہ بات اہم ہے کہ جہاں متن وہی ہو اور سند دوسری ہو، وہاں اسے الگ حکم یا الگ واقعہ بنا کر نہ سمجھا جائے۔ یہاں اصل موضوع مغرب کی نماز میں سورۂ طور کی قرأت ہی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ روایت پچھلی روایت کے مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔
  • مغرب میں سورۂ طور کی قرأت ہی اصل موضوع ہے۔
  • ہر دوسری سند لازماً نیا واقعہ نہیں ہوتی۔
  • حدیث کے متن اور سند کے فرق کو سمجھ کر پڑھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں