صحیح مسلم حدیث ۱۰۳۳ - مغرب میں سورۂ مرسلات
مغرب کی نماز میں سورۂ مرسلات کی قرأت
صحیح مسلم : ۱۰۳۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۳۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " إِنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ ، سَمِعَتْهُ وَهُوَ يَقْرَأُ : وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا سورة المرسلات آية 1 ، فَقَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هَذِهِ السُّورَةَ ، إِنَّهَا لَآخِرُ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ ،
ام فضل بنت حارث روایت:
سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سورہَ «وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا» پڑھتے سنا تو کہا بیٹا تو نے یہ سورت پڑھ کر مجھ کو یاد دلایا۔ سب سے آخر میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سورت سنی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز میں اسے پڑھا تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۰۳۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو «والمرسلات عرفا» پڑھتے سنا تو کہا کہ بیٹا، تم نے یہ سورت پڑھ کر مجھے یاد دلا دیا۔ پھر انہوں نے بتایا کہ یہ وہ آخری سورت تھی جو انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے سنی، آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے مغرب کی نماز میں پڑھا تھا۔ اس روایت میں مغرب کی نماز میں سورۂ مرسلات کی قرأت کا ذکر ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی تلاوت سن کر پرانی سنی ہوئی قرأت یاد آ سکتی ہے۔ حدیث کا بیان بہت سادہ ہے: ایک صحابیہ نے نبی صلى الله عليه وسلم سے سنی ہوئی مغرب کی قرأت کو یاد کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے مغرب کی نماز میں سورۂ مرسلات پڑھی۔
- قرآن کی قرأت سن کر صحابیہ کو نبی صلى الله عليه وسلم کی قرأت یاد آئی۔
- سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے اپنی سنی ہوئی بات امانت سے بیان کی۔
- حدیث میں مغرب کی نماز کی ایک خاص قرأت کا ذکر ہے۔
