صحیح مسلم حدیث ۱۰۴۱ - امام کے لیے آسان قرأت کا حکم

امامت میں ہلکی قرأت اور لوگوں کی رعایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۴۱

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : صَلَّى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الأَنْصَارِيُّ لِأَصْحَابِهِ الْعِشَاءَ ، فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ ، فَانْصَرَفَ رَجُلٌ مِنَّا ، فَصَلَّى ، فَأُخْبِرَ مُعَاذٌ عَنْهُ ، فَقَالَ : إِنَّهُ مُنَافِقٌ ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ ، دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ مُعَاذٌ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ فَتَّانًا يَا مُعَاذُ ؟ إِذَا أَمَمْتَ النَّاسَ ، فَاقْرَأْ بِ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا ، وَسَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ، وَاقْرَأْ : بِاسْمِ رَبِّكَ ، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى " .

جابر روایت:

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھائی تو قرأت لمبی کی۔ ایک شخص نے ہم میں سے نماز توڑ دی اور اکیلے پڑھ لی۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو جب یہ خبر پہنچی تو انہوں نے کہا: وہ منافق ہے۔ یہ خبر اس شخص کو پہنچی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے جو کہا تھا وہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اے معاذ! تو فسادی ہونا چاہتا ہے۔ جب تو امامت کرے تو «وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا» اور «سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» اور «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ» اور «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى» پڑھ۔

صحیح مسلم حدیث ۱۰۴۱ کا خلاصہ

یہ حدیث امامت کے آداب کو بہت صاف انداز میں سمجھاتی ہے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز میں قرأت لمبی کی تو ایک آدمی جماعت سے الگ ہو کر اکیلا نماز پڑھنے لگا۔ بعد میں معاذ رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں سخت بات کہی، مگر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو ٹوکا اور فرمایا کہ کیا تم فتنہ ڈالنا چاہتے ہو؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام کو لوگوں کی حالت دیکھ کر نماز پڑھانی چاہیے۔ اس حدیث کا اصل سبق امام ہلکی نماز پڑھائے اور ایسی قرأت کرے جو مقتدیوں کے لیے آسان ہو۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے چند چھوٹی سورتوں کا ذکر کیا تاکہ نماز بھی ادا ہو اور لوگوں پر بوجھ بھی نہ بنے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • امام کو مقتدیوں کی طاقت اور حالت کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • لمبی قرأت کی وجہ سے کسی پر غیر ضروری بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔
  • کسی مسلمان کے بارے میں سخت حکم لگانے سے پہلے احتیاط ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں