صحیح مسلم حدیث ۱۰۴۳ - عشاء کے بعد قوم کی امامت

نماز عشاء کے بعد اپنی قوم کی امامت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۴۳

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كَانَ مُعَاذٌ ، يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ، ثُمَّ يَأْتِي مَسْجِدَ قَوْمِهِ ، فَيُصَلِّي بِهِمْ " .

جابر بن عبداللہ روایت:

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھتے۔ پھر اپنے لوگوں کی مسجد میں آ کر امامت کرتے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۰۴۳ کا خلاصہ

یہ حدیث پچھلی روایت کے قریب ہے اور اس میں بھی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا معمول بیان ہوا ہے۔ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھتے، پھر اپنی قوم کی مسجد میں آ کر لوگوں کی امامت کرتے۔ اس بیان میں اصل توجہ امامت، مسجد اور جماعت کی نماز پر ہے۔ حدیث میں کوئی اضافی حکم یا لمبی بحث نہیں، اس لیے اس کی وضاحت بھی اسی متن کے اندر رہے گی۔ آسان الفاظ میں یہ روایت بتاتی ہے کہ مسجد کی امامت ایک سنجیدہ ذمہ داری ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز کے معاملے میں بہت پابند تھے۔ “عشاء کی نماز”، “معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ” اور “امامت کی حدیث” اس روایت کے اہم تلاش کیے جانے والے الفاظ ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز باجماعت کا خاص اہتمام کرتے تھے۔
  • معاذ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی مسجد میں امامت کرتے تھے۔
  • امامت کا تعلق مسجد اور جماعت دونوں سے واضح طور پر جڑا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں