صحیح مسلم حدیث ۱۰۴۴ - امام لمبی نماز سے بچائے
امام کے لیے ہلکی نماز پڑھانے کی ہدایت
صحیح مسلم : ۱۰۴۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۴۴
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ أَجْلِ فُلَانٍ ، مِمَّا يُطِيلُ بِنَا ، فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضِبَ فِي مَوْعِظَةٍ قَطُّ ، أَشَدَّ مِمَّا غَضِبَ يَوْمَئِذٍ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ ، فَأَيُّكُمْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيُوجِزْ ، فَإِنَّ مِنْ وَرَائِهِ الْكَبِيرَ ، وَالضَّعِيفَ ، وَذَا الْحَاجَةِ " ،
ابومسعود انصاری روایت:
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میں فلاں شخص کی وجہ سے صبح کی جماعت میں نہیں آتا کیونکہ وہ قرأت لمبی کرتا ہے۔ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت کرنے میں کبھی اتنے غصہ میں نہیں دیکھا جتنا اس دن دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! تم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو دین سے نفرت کراتے ہیں۔ جو کوئی تم میں امامت کرے تو مختصر نماز پڑھے اس لئے کہ اس کے پیچھے بوڑھا اور ناتواں اور کام والا ہوتا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۰۴۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے شکایت کی کہ وہ صبح کی جماعت میں اس لیے نہیں آتا کہ ایک امام قرأت لمبی کرتا ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے اس موقع پر سخت نصیحت فرمائی اور بتایا کہ لوگوں میں ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو دین سے دوری کا سبب بن جاتے ہیں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے امام کو مختصر نماز پڑھانے کا حکم دیا، کیونکہ پیچھے بوڑھا، ناتواں اور کام والا شخص بھی ہوتا ہے۔ یہاں “امام ہلکی نماز پڑھائے” مرکزی پیغام ہے۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ نماز کو بے دھیانی سے پڑھا جائے، بلکہ جماعت میں لوگوں کی حالت کا خیال رکھا جائے۔ امام کے لیے آسانی، نرمی اور مقتدیوں کی رعایت بہت اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امام کو فجر یا کسی بھی جماعت میں لوگوں پر مشقت نہیں ڈالنی چاہیے۔
- جماعت میں بوڑھے، کمزور اور ضرورت مند لوگ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
- دین کی طرف بلانے والے انداز میں آسانی اور نرمی ہونی چاہیے۔
