صحیح مسلم حدیث ۱۰۵۰ - امام قوم کے لیے آسانی کرے
قوم کی امامت اور نماز میں آسانی
صحیح مسلم : ۱۰۵۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۵۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيُّ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : أُمَّ قَوْمَكَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي شَيْئًا ، قَالَ : ادْنُهْ ، فَجَلَّسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ فِي صَدْرِي بَيْنَ ثَدْيَيَّ ، ثُمَّ قَالَ : تَحَوَّلْ ، فَوَضَعَهَا فِي ظَهْرِي بَيْنَ كَتِفَيَّ ، ثُمَّ قَالَ : أُمَّ قَوْمَكَ ، فَمَنْ أَمَّ قَوْمًا ، فَلْيُخَفِّفْ ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ ، وَإِنَّ فِيهِمُ الْمَرِيضَ ، وَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ ، وَإِنَّ فِيهِمُ ذَا الْحَاجَةِ ، وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ وَحْدَهُ ، فَلْيُصَلِّ كَيْفَ شَاءَ " .
عثمان بن ابی العاص ثقفی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اپنی قوم کی امامت کرو۔“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنے دل میں کچھ پاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے نزدیک آ۔“ اور مجھے اپنے سامنے بٹھایا پھر اپنی ہتھیلی میرے سینہ پر رکھی۔ اس کے بعد فرمایا: ”پھر جا۔“ اور اپنی ہتھیلی میری پیٹھ پر مونڈھوں کے درمیان میں رکھی۔ اس کے بعد فرمایا: ”جا اپنی قوم کی امامت کر۔ اور جو کوئی کسی قوم کی امامت کرے وہ ہلکی نماز پڑھے اس لئے کہ لوگوں میں کوئی بوڑھا ہے، کوئی بیمار ہے، کوئی ناتواں ہے، کوئی کام والا ہے، البتہ جب اکیلے پڑھے تو جس طرح جی چاہے پڑھے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۰۵۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنی قوم کی امامت کا حکم دیا۔ انہوں نے اپنے دل کی کیفیت کا ذکر کیا تو نبی صلى الله عليه وسلم نے انہیں اپنے قریب کیا، سینے اور پیٹھ پر ہاتھ رکھا، پھر فرمایا کہ جا کر اپنی قوم کی امامت کرو۔ ساتھ ہی اصول بتایا کہ جو کسی قوم کی امامت کرے وہ ہلکی نماز پڑھائے، کیونکہ لوگوں میں بوڑھے، بیمار، ناتواں اور کام والے ہوتے ہیں۔ جب اکیلا پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے۔ اس روایت میں امامت، ہلکی نماز، اور مقتدیوں کی رعایت تینوں باتیں جمع ہیں۔ امام کے لیے اصل سبق یہ ہے کہ وہ اپنی قوم کی خدمت اور آسانی کو سامنے رکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امامت ایک ذمہ داری ہے جس میں قوم کے لوگوں کی حالت دیکھی جاتی ہے۔
- جماعت میں بوڑھے، بیمار، کمزور اور کام والے افراد کا خیال ضروری ہے۔
- اکیلی نماز میں طوالت کی گنجائش ہے، جماعت میں آسانی بہتر ہے۔
