صحیح مسلم حدیث ۱۱۳ - شہادتین اور ارکان اسلام
شہادتین سے عمل تک: اسلام کے پانچ ستون
صحیح مسلم : ۱۱۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۳
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَر ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ ، شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَحَجِّ الْبَيْتِ ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام بنایا گیا ہے پانچ چیزوں پر، ایک تو گواہی دینا اس بات کی کہ کوئی سچا معبود نہیں سوا اللہ کے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں، دوسرے نماز قائم کرنا، تیسرے زکوٰۃ دینا، چوتھے حج کرنا خانہ کعبہ کا، پانچویں رمضان کے روزے رکھنا۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں اسلام کے پانچ ستون کو واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلے گواہی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ پھر نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا بیان ہوا۔ یہ روایت “شہادتین کی حدیث” اور “ارکان اسلام کی حدیث” کے طور پر بہت تلاش کی جاتی ہے۔ اس میں عقیدہ اور عمل دونوں ایک ساتھ آتے ہیں۔ صرف دل میں اچھا خیال کافی نہیں، بلکہ شہادت کے بعد نماز، زکوٰۃ، حج اور روزہ بھی دین کی پہچان بنتے ہیں۔ متن کے مطابق یہی اسلام کی بنیادیں ہیں جن پر مسلمان اپنی دینی زندگی بناتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شہادتین اسلام کی پہلی بنیاد ہیں۔
- نماز اور زکوٰۃ کو ارکان اسلام میں شمار کیا گیا ہے۔
- حج اور رمضان کے روزے بھی اسلام کے بڑے ستون ہیں۔
