صحیح مسلم حدیث ۱۱۶۵ - صفوں اور تیمم کی فضیلت

صفیں فرشتوں جیسی، زمین مسجد اور مٹی پاک کرنے والی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۶۵

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ ، جُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ ، وَجُعِلَتْ لَنَا الأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا ، وَجُعِلَتْ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُورًا ، إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ ، وَذَكَرَ خَصْلَةً أُخْرَى "

حذیفہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم لوگوں کو اور لوگوں پر فضیلت ملی تین باتوں کی وجہ سے۔ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح کی گئیں اور ہمارے لئے ساری زمین نماز کی جگہ ہے اور زمین کی خاک ہم کو پاک کرنے والی ہے جب پانی نہ ملے۔“ اور ایک بات اور بیان کی۔

صحیح مسلم حدیث ۱۱۶۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع نماز، صفیں اور پاکی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیں لوگوں پر تین باتوں کی وجہ سے فضیلت دی گئی۔ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی کی گئیں۔ اس سے نماز کی صف بندی کی قدر معلوم ہوتی ہے۔ پھر فرمایا کہ ہمارے لیے ساری زمین نماز کی جگہ بنائی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز کے لیے آسانی رکھی گئی ہے، جب مناسب جگہ مل جائے تو نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ تیسری بات یہ بیان ہوئی کہ زمین کی خاک ہمارے لیے پاک کرنے والی بنائی گئی جب پانی نہ ملے۔ حدیث میں پانی نہ ملنے کی شرط بھی آئی ہے، اس لیے اسے اسی حد میں سمجھنا چاہیے۔ اس میں صفوں کی درستگی، نماز کی جگہ اور تیمم کا ذکر جمع ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز کی صفوں کو درست رکھنا اس حدیث کے مضمون سے جڑا ہے۔
  • ساری زمین نماز کی جگہ بنائی گئی ہے۔
  • پانی نہ ملے تو زمین کی خاک پاکی کا ذریعہ بنائی گئی ہے۔
  • حدیث میں بیان کردہ شرطوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں