صحیح مسلم حدیث ۱۲۱۵ - مسجد میں بچی کے ساتھ نماز
مسجد میں بچی کے ساتھ نماز: روایت کا مختصر بیان
صحیح مسلم : ۱۲۱۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۱۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح قَالَ : وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ جَمِيعًا ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ : بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسٌ ، خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ : أَنَّهُ أَمَّ النَّاسَ فِي تِلْكَ الصَّلَاة .
ابوقتادہ روایت:
ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ باقی حدیث اسی طرح ہے صرف اتنا مذکور نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی امامت کروائی۔
صحیح مسلم حدیث ۱۲۱۵ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ باقی مضمون وہی ہے جو امامہ بنت ابی العاص رضی اللہ عنہا کو نماز میں اٹھانے والی روایات میں آیا ہے، البتہ یہاں یہ ذکر نہیں کہ آپ نے لوگوں کی امامت کروائی۔ اس سے روایت کے الفاظ کی احتیاط بھی سمجھ آتی ہے کہ جہاں امامت کا ذکر نہیں، وہاں اسے لازمی طور پر شامل نہ کیا جائے۔ اس حدیث کا اصل موضوع نماز میں بچی کو اٹھانا، بچوں سے شفقت، اور عبادت کے دوران مناسب حرکت ہے۔ عام قاری کے لیے پیغام بہت آسان ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے عمل کو بھی برقرار رکھا اور بچی کا خیال بھی رکھا۔ یہی اس روایت کا نرم اور واضح سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں واقعہ بیان ہوا مگر امامت کا ذکر نہیں آیا۔
- حدیث بیان کرتے وقت الفاظ کی حد کا خیال رکھنا چاہیے۔
- نماز میں بچی کا خیال رکھنے کا مضمون برقرار ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں نرمی دکھائی دیتی ہے۔
