صحیح مسلم حدیث ۱۲۸ - لا الہ الا اللہ اور اللہ کے سپرد حساب
لا الہ الا اللہ، جان و مال کی حرمت اور نصیحت
صحیح مسلم : ۱۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۸
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، قَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ ، حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، عَصَمُوا مِنِّي ، دِمَاءَهُمْ ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " ، ثُمَّ قَرَأَ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ { 21 } لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ { 22 } سورة الغاشية آية 21-22 .
جابر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم ہوا ہے لوگوں سے لڑنے کا یہاں تک کہ وہ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» کہیں۔ پھر جب انہوں نے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہا تو بچا لیا مجھ سے اپنی جانوں اور مالوں کو مگر حق کے بدلے اور حساب ان کا اللہ پر ہے۔“ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ» یعنی ”تو تو نصیحت کرنے والا ہے لوگوں کو تیرا کچھ زور ان پر نہیں“ (یہ آیت اس وقت کی ہے جب جہاد فرض نہ ہوا تھا)۔
صحیح مسلم حدیث ۱۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں۔ جب وہ یہ کلمہ کہیں تو ان کی جانیں اور مال محفوظ ہو جاتے ہیں، مگر حق کے بدلے، اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ الغاشیہ کی آیات پڑھیں کہ آپ نصیحت کرنے والے ہیں، ان پر مسلط نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کی بات پہنچانا، نصیحت کرنا اور ظاہر اقرار کے بعد عدل سے معاملہ کرنا اہم ہے۔ دلوں کے فیصلے اللہ کے سپرد ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کلمہ توحید جان و مال کی حرمت کا سبب بنتا ہے۔
- حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام نصیحت پہنچانا تھا۔
- شرعی حق کے بغیر کسی کی جان و مال پر ہاتھ نہیں ڈالا جا سکتا۔
