صحیح مسلم حدیث ۱۳۷۴ - فجر اور عصر
فجر اور عصر کی ایک رکعت: وقت ختم ہونے سے پہلے نماز پانا
صحیح مسلم : ۱۳۷۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۷۴
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَعَنِ الأَعْرَجِ ، حَدَّثُوهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ ، قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ ، قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو ایک رکعت ملی صبح کی قبل طلوع آفتاب کے اس کو صبح کی نماز مل گئی اور جس کو ایک رکعت عصر کی ملی قبل غروب آفتاب کے اس کو عصر کی نماز مل گئی۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۳۷۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع فجر اور عصر کی ایک رکعت پانا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے صبح کی نماز کی ایک رکعت سورج نکلنے سے پہلے پا لی، اس نے صبح کی نماز پا لی۔ اور جس نے عصر کی ایک رکعت سورج غروب ہونے سے پہلے پا لی، اس نے عصر پا لی۔ اس حدیث میں دو نمازوں کا خاص ذکر ہے: فجر اور عصر۔ دونوں کے ساتھ وقت کے آخری کنارے کا بیان ہے، یعنی طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے۔ “فجر کی ایک رکعت سورج نکلنے سے پہلے”، “عصر کی ایک رکعت غروب سے پہلے” اور “وقت ختم ہونے سے پہلے نماز” جیسے سرچ سوالات اسی روایت سے جڑتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فجر کی ایک رکعت طلوع آفتاب سے پہلے مل جائے تو فجر پانے کا ذکر ہے۔
- عصر کی ایک رکعت غروب آفتاب سے پہلے مل جائے تو عصر پانے کا ذکر ہے۔
- حدیث فجر اور عصر کے وقت کے آخری حصے کو صاف الفاظ میں بیان کرتی ہے۔
