صحیح مسلم حدیث ۱۳۹۹ - گرمی کی شدت اور نماز کو ٹھنڈا کرنا
ابردوا عن الحر: گرمی میں نماز ٹھنڈی کرنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۳۹۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۹۹
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبْرِدُوا عَنِ الْحَرِّ فِي الصَّلَاةِ ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
ابوہریرہ روایت:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جو احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھنڈا کرو نماز کو گرمی سے کیونکہ گرمی کی سختی جہنم کی بھاپ سے ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۳۹۹ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول احادیث میں سے ایک مضمون یہ ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: نماز کو گرمی سے ٹھنڈا کرو، کیونکہ گرمی کی سختی جہنم کی بھاپ سے ہے۔ یہاں “ابردوا بالصلاة حدیث” کا مرکزی مطلب یہی ہے کہ سخت گرمی میں نماز کے لیے نسبتاً ٹھنڈا وقت اختیار کیا جائے۔ روایت میں “گرمی سے” کے الفاظ آئے ہیں، اس لیے اسے عام سستی یا بلا وجہ تاخیر کے لیے دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔ اصل بات سخت گرمی کی حالت ہے۔ یہ حدیث قاری کو بتاتی ہے کہ شریعت میں نماز کے وقت کی پابندی کے ساتھ انسانی حالت کا بھی لحاظ رکھا گیا ہے، مگر اتنا ہی جتنا حدیث کے الفاظ بتاتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کو گرمی سے ٹھنڈا کرنے کا حکم آیا ہے۔
- گرمی کی سختی کی وجہ حدیث کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔
- یہ حکم سخت گرمی کی حالت کے ساتھ متعلق ہے۔
