صحیح مسلم حدیث ۱۴۴۶ - عشاء کا انتظار اور امت پر نرمی
عشاء کی نماز کا انتظار اور نبی صلى الله عليه وسلم کی امت پر شفقت
صحیح مسلم : ۱۴۴۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۴۶
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا وَقَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا : جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا ، حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ ، فَلَا نَدْرِي أَشَيْءٌ شَغَلَهُ فِي أَهْلِهِ ، أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ ، فَقَالَ حِينَ خَرَجَ : " إِنَّكُمْ لَتَنْتَظِرُونَ صَلَاةً ، مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ ، وَلَوْلَا أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي ، لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ " ، ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى " .
عبداللہ بن عمر روایت:
ہم ایک دن ٹھہرے رہے۔ نماز عشاء کے واسطے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے جب تہائی رات گزر گئی یا اس کے بعد پھر ہم نہیں جانتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر میں کچھ کام ہو گیا تھا یا کچھ اور تھا۔ پھر فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نکلے کہ ”تم انتظار کرتے تھے ایسی نماز کا کہ تمہارے سوا کوئی دین والا اس کا انتظار نہیں کرتا تھا۔ اگر میری امت پر بار نہ ہوتا تو میں ہمیشہ ان کے ساتھ اسی وقت یہ نماز پڑھا کرتا“ پھر مؤذن کو حکم فرمایا۔ اس نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۴۶ کا خلاصہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اس روایت میں عشاء کی نماز کا انتظار، تاخیر اور امت پر آسانی تینوں باتیں جمع ہیں۔ صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ رات کا تہائی حصہ گزر گیا یا اس سے بھی کچھ زیادہ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا کہ تم ایسی نماز کا انتظار کر رہے ہو جس کا انتظار تمہارے سوا کوئی دین والا نہیں کر رہا۔ پھر فرمایا کہ اگر امت پر بوجھ نہ ہوتا تو میں ہمیشہ اسی وقت نماز پڑھاتا۔ اس کے بعد مؤذن کو اقامت کا حکم دیا گیا اور نماز ادا ہوئی۔ اس حدیث میں عشاء کی نماز کا وقت، جماعت کی ترتیب، اور لوگوں کی طاقت کا خیال ایک ساتھ نظر آتا ہے۔ بات کو یہی تک رکھنا چاہیے، کیونکہ متن میں یہی مضمون آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام نے عشاء کی نماز کے لیے انتظار کیا۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انتظار کرنے والوں کی حوصلہ افزائی فرمائی۔
- امت پر بوجھ نہ ڈالنے کا خیال رکھا گیا۔
- اقامت کے بعد جماعت کے ساتھ نماز ادا ہوئی۔
