صحیح مسلم حدیث ۱۴۵ - عبادت صرف اللہ کے لیے
عبادت صرف اللہ کی اور شرک سے مکمل بچاؤ
صحیح مسلم : ۱۴۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ وَالأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا الأَسْوَدَ بْنَ هِلَالٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : يَا مُعَاذُ ، " أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : أَنْ يُعْبَدَ اللَّهُ وَلَا يُشْرَكَ بِهِ شَيْءٌ ، قَالَ : أَتَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ " .
معاذ بن جبل روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! تو جانتا ہے اللہ کا بندے پر کیا حق ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ حق یہ ہے کہ عبادت کی جائے اللہ کی اور شریک نہ کیا جائے اس کے ساتھ کوئی:“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو جانتا ہے بندوں کا حق اللہ پر کیا ہے؟“ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ حق یہ ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ کرے۔“ (یعنی ہمیشہ کا عذاب جیسے مشرکوں کو ہو گا)۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا تم جانتے ہو اللہ کا بندے پر کیا حق ہے؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا حق یہ ہے کہ اسی کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بندوں کے حق کے بارے میں بتایا کہ اللہ انہیں عذاب نہ کرے۔ حدیث کے الفاظ بہت صاف ہیں۔ اس میں عبادت، توحید اور شرک سے بچنے کو اصل بات بنایا گیا ہے۔ مسلمان کے لیے یہ حدیث ایمان کو سیدھا رکھنے والی بنیادی نصیحت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عبادت کا اصل حق صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔
- اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا ایمان کے خلاف ہے۔
- دینی جواب میں ادب کے ساتھ اللہ اور رسول کے علم کو ماننا چاہیے۔
- توحید پر قائم رہنے والوں کے لیے عذاب سے بچاؤ کی بشارت ہے۔
