صحیح مسلم حدیث ۱۴۶ - بندوں پر اللہ کا حق
بندوں پر اللہ تعالیٰ کا حق کیا ہے؟
صحیح مسلم : ۱۴۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۶
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاذًا ، يَقُولُ : دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجَبْتُهُ ، فَقَالَ : هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى النَّاسِ ، نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .
اسود بن ھلال روایت:
میں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا میں نے آپ کی بات پر لبیک کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق ہے۔“ ان کی حدیث کی مانند۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۶ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کو ایک اور سند سے بیان کرتی ہے۔ اسود بن ہلال کہتے ہیں کہ انہوں نے معاذ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا، انہوں نے جواب دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو بندوں پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق ہے؟ روایت میں آگے کہا گیا کہ یہ حدیث پچھلی روایت جیسی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے توحید، عبادت اور اللہ کے حق کی تعلیم کو یاد رکھا اور آگے پہنچایا۔ یہاں اصل سبق یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کا حق پہچانے، اس کی عبادت کرے اور شرک سے بچے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر فوراً توجہ دینا صحابہ کا طریقہ تھا۔
- اللہ کا حق جاننا مسلمان کے لیے بنیادی بات ہے۔
- توحید اور عبادت کی تعلیم بار بار بیان کی گئی۔
- دینی روایت کو سند کے ساتھ نقل کرنا علم کی امانت ہے۔
