صحیح مسلم حدیث ۱۴۶۱ - نماز میں تاخیر پر صحابہ کی رہنمائی
نماز میں تاخیر ہو تو اہل علم سے رہنمائی کیوں ضروری ہے؟
صحیح مسلم : ۱۴۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۶۱
وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدٍ ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : كَانَ الْحَجَّاجُ ، يُؤَخِّرُ الصَّلَوَاتِ ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ .
جابر روایت:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے وہی روایت بیان کی جو ابھی اوپر گزری ہے جس کو غندر نے روایت کیا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی مضمون نماز کے اوقات اور نماز میں تاخیر ہے۔ روایت میں بتایا گیا ہے کہ حجاج نمازوں کو مؤخر کرتا تھا، یعنی نماز کو دیر سے پڑھاتا تھا۔ اس صورت میں لوگوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ جب نماز کے وقت کے بارے میں الجھن ہو، یا کسی حاکم یا امام کی وجہ سے نماز دیر ہو رہی ہو، تو انسان اپنی رائے پر اصرار نہ کرے بلکہ علم رکھنے والے صحابی یا اہل علم سے پوچھے۔ اس حدیث میں جواب کی تفصیل نہیں آئی، بلکہ بتایا گیا ہے کہ سیدنا جابرؓ نے وہی روایت بیان کی جو اوپر غندر کے طریق سے گزری تھی۔ اس لیے یہ متن ہمیں نماز کے وقت کی پابندی، مسئلہ پوچھنے کے ادب، اور روایت کو امانت کے ساتھ نقل کرنے کا سبق دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کے وقت میں تاخیر کو معمولی سمجھ کر چھوڑ نہیں دینا چاہیے۔
- دینی مسئلہ پیش آئے تو اہل علم سے پوچھنا درست طریقہ ہے۔
- راوی نے بات کو اسی حد تک نقل کیا جس حد تک روایت میں آئی تھی۔
- نماز کے اوقات سے متعلق معاملہ احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔
