صحیح مسلم حدیث ۱۴۸۳ - جماعت چھوڑنے والوں کے لیے سخت تنبیہ
نماز باجماعت چھوڑنے پر سخت تنبیہ
صحیح مسلم : ۱۴۸۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۸۳
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَانِي ، أَنْ يَسْتَعِدُّوا لِي بِحُزَمٍ مِنْ حَطَبٍ ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، ثُمَّ تُحَرَّقُ بُيُوتٌ عَلَى مَنْ فِيهَا " .
ابوہریرہ روایت:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کیں اور یہ بھی روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ اپنے جوانوں کو حکم دوں کہ لکڑیوں کا ڈھیر لگائیں اور ایک شخص کو حکم کروں کہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور لوگوں سمیت گھروں کو جلا دوں۔“ (یعنی جو نماز میں نہیں آئے)۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نماز باجماعت چھوڑنے والوں کے بارے میں سخت انداز بیان ہوا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کئی احادیث روایت کیں، ان میں یہ بات بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ نوجوان لکڑیوں کا ڈھیر تیار کریں، ایک شخص لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر ان گھروں کو جلا دیا جائے جن میں لوگ نماز سے پیچھے رہتے ہیں۔ اس روایت کا اصل پیغام یہ ہے کہ جماعت کی نماز معمولی عمل نہیں۔ مسجد میں نماز، اذان کے بعد حاضری، اور مسلمانوں کے ساتھ صف میں کھڑا ہونا دین کے ظاہر اعمال میں سے ہے۔ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ نماز کو گھر کی سہولت یا سستی کی وجہ سے نہ چھوڑا جائے، بلکہ جہاں جماعت ہو وہاں حاضر ہونے کی فکر کی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز باجماعت سے پیچھے رہنا بہت سنگین بات ہے۔
- مسلمان کو مسجد کی جماعت کا اہتمام کرنا چاہیے۔
- نماز کے لیے دوسروں کے ساتھ صف میں کھڑا ہونا اہم عمل ہے۔
- سستی کی وجہ سے جماعت چھوڑنا حدیث کے مزاج کے خلاف ہے۔
