صحیح مسلم حدیث ۱۵۲۲ - پانچ نمازوں کی فضیلت اور گناہوں کی صفائی
پانچ نمازوں کی فضیلت: گناہوں کی صفائی کی خوبصورت مثال
صحیح مسلم : ۱۵۲۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۲۲
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ كِلَاهُمَا ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ وَفِي حَدِيثِ بَكْرٍ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ ؟ قَالُوا : لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ ، قَالَ : فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”بھلا دیکھو کہ اگر کسی کے دروازہ پر ایک نہر ہو کہ وہ اس میں ہر روز پانچ بار نہاتا ہو تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی رہے گا۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ نہیں۔ فرمایا: ”یہی مثال ہے پانچوں نمازوں کی کہ اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے گناہوں کو صاف کر دیتا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۵۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں پانچ نمازوں کی فضیلت ایک آسان مثال سے سمجھائی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا کہ اگر کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ روزانہ پانچ بار اس میں نہائے تو کیا اس کے بدن پر میل باقی رہے گا؟ صحابہ نے عرض کیا کہ نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ نمازوں کی مثال بھی یہی ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہوں کو صاف کر دیتا ہے۔ یہ بات عام فہم انداز میں نماز کی پابندی کی اہمیت بتاتی ہے۔ جیسے جسم بار بار دھلنے سے صاف رہتا ہے، ویسے ہی نماز بندے کی روحانی حالت کو بہتر بناتی ہے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ نماز کو روزمرہ زندگی کا مستقل حصہ بنایا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پانچ نمازیں بندے کے گناہوں کی صفائی کا سبب بنتی ہیں۔
- نماز کی پابندی انسان کو بار بار اللہ کی طرف لوٹاتی ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکل بات کو آسان مثال سے سمجھایا۔
- نماز کو روزانہ کی سب سے اہم عادت بنانا چاہیے۔
