صحیح مسلم حدیث ۱۵۵۰ - ستر قاری صحابہ کی شہادت
بئر معونہ کے ستر قاری: ایک ماہ قاتلوں پر بددعا
صحیح مسلم : ۱۵۵۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۵۰
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَدَ عَلَى سَرِيَّةٍ ، مَا وَجَدَ عَلَى السَّبْعِينَ الَّذِينَ أُصِيبُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ ، كَانُوا يُدْعَوْنَ الْقُرَّاءَ ، فَمَكَثَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى قَتَلَتِهِمْ " .
انس روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی چھوٹے لشکر کے لئے اس قدر غصہ ہوتے کبھی نہیں دیکھا جس قدر ان ستر صحابیوں رضی اللہ عنہم کے لئے غصہ ہوئے جو بیر معونہ میں شہید ہوئے کہ ان کو قاری کہتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ تک برابر ان کے قاتلوں پر بددعا کرتے رہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۵۵۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غم اور ناراضی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی چھوٹے لشکر کے لیے اتنا غصہ ہوتے نہیں دیکھا جتنا ان ستر صحابہ کے لیے ہوا جو بئر معونہ کے دن شہید کیے گئے۔ ان صحابہ کو قاری کہا جاتا تھا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ تک ان کے قاتلوں پر بددعا کرتے رہے۔ یہ روایت بئر معونہ حدیث، ستر قاری صحابہ، اور قنوت نازلہ کے موضوع سے جڑی ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ صحابہ کے قتل پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ دعا کی صورت میں قاتلوں کے خلاف بددعا فرمائی۔ روایت میں جو کچھ آیا ہے، اسی کو بیان کرنا زیادہ درست ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بئر معونہ میں ستر صحابہ شہید کیے گئے جنہیں قاری کہا جاتا تھا۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شہادت کا سخت صدمہ ہوا۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ تک ان کے قاتلوں پر بددعا کرتے رہے۔
- حدیث میں واقعے کی سنگینی واضح طور پر بیان ہوئی ہے۔
