صحیح مسلم حدیث ۱۵۷۲ - سفر کی نماز اور سیدہ عائشہ کی تاویل
سفر کی نماز، قصر اور اتمام: روایت کا سادہ مطلب
صحیح مسلم : ۱۵۷۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۷۲
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ الصَّلَاةَ أَوَّلَ مَا فُرِضَتْ رَكْعَتَيْنِ ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ ، وَأُتِمَّتْ صَلَاةُ الْحَضَرِ " ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ : مَا بَالُ عَائِشَةَ ، تُتِمُّ فِي السَّفَرِ ، قَالَ : إِنَّهَا تَأَوَّلَتْ كَمَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ .
اس کا ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ زہری نے کہا کہ میں نے عروہ سے پوچھا کہ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سفر میں پوری نماز کیوں پڑھتی تھیں؟ (یعنی ان کے نزدیک تو دو ہی رکعت فرض تھی) تب انہوں نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہی تاویل کی جو تاویل کی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے (یعنی وہ بھی پوری پڑھتے تھے جیسا کہ ہم اوپر کہہ آئے ہیں)۔
صحیح مسلم حدیث ۱۵۷۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں پہلے وہی بات بیان ہوئی کہ نماز ابتدا میں دو رکعت فرض ہوئی، سفر کی نماز برقرار رہی اور حضر کی نماز مکمل کی گئی۔ پھر زہری رحمہ اللہ نے عروہ رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیان کے مطابق سفر کی نماز دو رکعت تھی تو وہ سفر میں پوری نماز کیوں پڑھتی تھیں؟ عروہ رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ انہوں نے وہی تاویل کی جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کی۔ اس حدیث کا اصل موضوع قصر نماز اور سفر میں نماز کی ادائیگی ہے۔ یہاں ہمیں متن سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اپنا عمل تاویل کی بنیاد پر تھا۔ اس سے باہر کوئی لمبی فقہی بحث اس روایت میں بیان نہیں ہوئی، اس لیے وضاحت بھی اسی دائرے میں رہنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر کی نماز کے بارے میں دو رکعت کا بیان موجود ہے۔
- حضر کی نماز کو مکمل کیا گیا۔
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اتمام کو تاویل کے ساتھ بیان کیا گیا۔
- اختصار اور اتمام کا ذکر روایت کے اندر الگ انداز سے آیا ہے۔
