صحیح مسلم حدیث ۱۶۱۸ - نفل وتر
سواری پر نفل اور وتر: فرض نماز سے واضح فرق
صحیح مسلم : ۱۶۱۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۱۸
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُسَبِّحُ عَلَى الرَّاحِلَةِ ، قِبَلَ أَيِّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ ، وَيُوتِرُ عَلَيْهَا ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْهَا الْمَكْتُوبَةَ .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نفل پڑھا کرتے تھے جدھر وہ منہ کرے اور اسی پر وتر پڑھتے مگر فرض اس پر نہ پڑھتے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۶۱۸ کا خلاصہ
یہ روایت سواری پر نفل نماز کے مسئلے کو زیادہ واضح کرتی ہے، کیونکہ اس میں ایک حد بھی بیان ہوئی ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نفل پڑھتے تھے، جدھر بھی سواری کا رخ ہوتا، اور اسی پر وتر بھی پڑھتے تھے۔ پھر صاف فرمایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز سواری پر نہیں پڑھتے تھے۔ یہی جملہ اس حدیث کو سمجھنے میں بہت اہم ہے۔ عام قاری کے لیے خلاصہ یہ ہے کہ سفر میں سواری پر نفل اور وتر کی سہولت ثابت ہے، مگر فرض نماز کو اس روایت میں الگ رکھا گیا ہے۔ اس لیے سواری پر نفل نماز کی حدیث پڑھتے وقت فرض اور نفل کے فرق کو ضرور ذہن میں رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سواری پر نفل اور وتر پڑھنے کا ذکر صاف ہے۔
- فرض نماز سواری پر نہ پڑھنے کی حد بھی بیان ہوئی۔
- سفر میں عبادت کی آسانی کے ساتھ فرض اور نفل کا فرق ملحوظ رکھا گیا۔
