صحیح مسلم حدیث ۱۶۳۸ - نماز کے بعد دائیں یا بائیں پھرنا
نماز کے بعد دائیں یا بائیں طرف پھرنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۶۳۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۳۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " لَا يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا ، لَا يَرَى إِلَّا أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ ، أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ ، أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ " .
سیدنا عبداللہ روایت:
کوئی اپنی ذات میں سے شیطان کو حصہ نہ دے۔ یہ نہ سمجھے کہ نماز کے بعد داہنی ہی طرف پھرنا مجھ پر واجب ہے۔ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بائیں طرف بھی پھرتے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۶۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع نماز کے بعد رخ پھیرنا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی اپنی ذات میں سے شیطان کو حصہ نہ دے، یعنی یہ نہ سمجھے کہ نماز کے بعد صرف دائیں طرف پھرنا ہی لازم ہے۔ پھر انہوں نے بتایا کہ میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بائیں طرف پھرتے دیکھا ہے۔ اس حدیث میں بہت سادہ مگر اہم بات ہے: کسی جائز عمل کو اپنی طرف سے لازم نہ بنا لیا جائے۔ نماز کے بعد دائیں طرف پھرنا ہو یا بائیں طرف، روایت میں بائیں طرف پھرنے کا بھی ذکر آیا ہے۔ اس لیے اس مسئلے میں سختی اور ایک ہی طریقے کو واجب سمجھنا درست نہیں۔ حدیث ہمیں سنت کے معاملے میں توازن سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کے بعد صرف دائیں طرف پھرنے کو لازم سمجھنے سے روکا گیا ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بائیں طرف پھرنا بھی ثابت ہے۔
- دینی عمل میں اپنی طرف سے غیر ضروری پابندی نہیں لگانی چاہیے۔
