صحیح مسلم حدیث ۱۶۴۰ - نماز کے بعد دائیں طرف پھرنا

نماز کے بعد دائیں طرف پھرنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۴۰

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسًا ، كَيْفَ أَنْصَرِفُ إِذَا صَلَّيْتُ عَنْ يَمِينِي أَوْ عَنْ يَسَارِي ؟ قَالَ : أَمَّا أَنَا ، " فَأَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ " .

سدی روایت:

میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ میں نماز پڑھ کر کدھر کو پھرا کروں داہنی طرف یا بائیں طرف؟ انہوں نے کہا: میں نے تو اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو داہنی طرف پھرتے دیکھا ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۶۴۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سدی رحمہ اللہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نماز پڑھ کر میں دائیں طرف پھرا کروں یا بائیں طرف؟ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں طرف پھرتے دیکھا ہے۔ اس روایت میں دائیں طرف پھرنے کا ذکر آیا ہے، جبکہ قریبی روایات میں بائیں طرف پھرنے کا بھی ذکر ہے۔ اس لیے اس حدیث کا سادہ مطلب یہ ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے مشاہدے میں اکثر دائیں طرف پھرنا آیا۔ اسے اس طرح سمجھنا چاہیے کہ نماز کے بعد دائیں طرف مڑنا ثابت ہے، مگر صرف اسی کو لازم سمجھنے کی بات اس متن میں نہیں۔ حدیث ہمیں سوال پوچھ کر عمل سیکھنے کا اچھا انداز بھی دکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز کے بعد دائیں طرف پھرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
  • سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اپنے اکثر مشاہدے کو بیان کیا۔
  • مسئلہ معلوم نہ ہو تو اہل علم سے پوچھنا درست طریقہ ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں