صحیح مسلم حدیث ۱۷۰۶ - رکوع سے پہلے کھڑے ہونا

رکوع سے پہلے کھڑے ہونے کی حدیث: بیٹھ کر قرأت کا بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۷۰۶

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ ، قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ إِنْسَانٌ أَرْبَعِينَ آيَةً " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے قرأت کرتے پھر جب ارادہ کرتے رکوع کا تو کھڑے ہوتے اتنی دیر کہ آدمی اس میں چالیس آیتیں پڑھے (یعنی پھر رکوع کرتے)۔

صحیح مسلم حدیث ۱۷۰۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع بیٹھ کر قرأت اور رکوع سے پہلے قیام ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے قرأت کرتے۔ پھر جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو کھڑے ہو جاتے، اتنی دیر کہ ایک آدمی اس وقت میں چالیس آیتیں پڑھ سکے۔ اس روایت میں رات کی نفل نماز کا ایک نہایت واضح عمل بیان ہوا ہے۔ بیٹھ کر نماز پڑھنے کی حدیث کے اندر یہ بات خاص طور پر دیکھی جاتی ہے کہ قرأت بیٹھ کر ہوئی، مگر رکوع سے پہلے قیام کیا گیا۔ متن میں کوئی لمبی بحث نہیں، بلکہ صرف عمل کی سادہ خبر ہے۔ اسی لیے اسے سمجھتے وقت اسی حد تک بات کرنی چاہیے جو روایت میں آئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھے ہوئے قرأت کرنا نقل ہوا۔
  • رکوع سے پہلے کھڑے ہونے کا عمل روایت میں بیان ہوا ہے۔
  • قیام کی مقدار چالیس آیتیں پڑھنے کے برابر بتائی گئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں