صحیح مسلم حدیث ۱۷۲۸ - آخر رات کی عبادت اور فجر کی تیاری

آخر رات کا قیام، طہارت اور فجر کی دو رکعتیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۷۲۸

وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ : سَأَلْتُ الأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ عَمَّا حَدَّثَتْهُ عَائِشَةُ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتِ : " كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِ آخِرَهُ ، ثُمَّ إِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ ، قَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ يَنَامُ ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ النِّدَاءِ الأَوَّلِ ، قَالَتِ : وَثَبَ ، وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتِ ، قَامَ فَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ ، وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتِ ، اغْتَسَلَ وَأَنَا أَعْلَمُ مَا تُرِيدُ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جُنُبًا ، تَوَضَّأَ وُضُوءَ الرَّجُلِ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ " .

ابواسحاق روایت:

پوچھا میں نے اسود بن یزید سے ان حدیثوں کے بارے میں جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے سنی ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مقدمہ میں تو انہوں نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو رہتے اول رات میں اور جاگتے آخر رات میں۔ پھر اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاجت ہوتی اپنی بیبیوں سے تو حاجت روا کرتے پھر سو رہتے۔پھر جب پہلی اذان ہوتی (یعنی صبح کے وقت کی اذان) تو جھٹ اچھل پڑتے اور قسم ہے اللہ کی انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اٹھتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اوپر پانی بہاتے اور اللہ کی قسم انہوں نے یہ نہیں کہا کہ نہاتے (یعنی جو لفظ انہوں نے فرمایا وہی مجھے یاد ہے) اور میں خوب جانتا ہوں جو آپ کی مراد ہے (یہ اس لئے کہ کہا کہ شرم کی بات ہے) اور اگر جنبی نہ ہوتے تو وضو کرتے جیسے لوگ نماز کے لئے وضو کرتے ہیں پھر دو رکعت پڑھتے۔ (یعنی صبح کی سنت

صحیح مسلم حدیث ۱۷۲۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں اسود بن یزید نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہوئی بات نقل کی۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے شروع حصے میں سوتے اور آخری حصے کو زندہ رکھتے، یعنی عبادت کرتے۔ پھر اگر گھر والوں سے حاجت ہوتی تو اسے پورا کرتے اور پھر سو رہتے۔ پہلی اذان کے وقت جلدی اٹھتے۔ اگر غسل کی حاجت ہوتی تو اپنے اوپر پانی بہاتے، اور اگر جنبی نہ ہوتے تو نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر دو رکعت پڑھتے۔ یہ روایت آخر رات کی عبادت، فجر کی سنت، وضو اور غسل کے الفاظ میں احتیاط کے بارے میں ہے۔ راوی نے خاص طور پر الفاظ کی حفاظت کا خیال رکھا، اس لیے اس حدیث کو پڑھتے ہوئے لفظوں کی حد کا خیال رکھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رات کے آخری حصے میں عبادت کا ذکر اس روایت میں واضح ہے۔
  • فجر سے پہلے طہارت اور دو رکعت پڑھنے کا بیان آیا ہے۔
  • راوی نے الفاظ نقل کرنے میں احتیاط دکھائی، جو حدیث فہمی کے لیے اہم ہے۔
  • گھر کی زندگی اور عبادت دونوں کا ذکر اسی متن میں ساتھ آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں