صحیح مسلم حدیث ۱۸۱۳ - تکبیر کے بعد دعائے استفتاح
تکبیر کے بعد دعائے استفتاح: وجہت وجہی والی روایت
صحیح مسلم : ۱۸۱۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۱۳
وحَدَّثَنَاه زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ ، ثُمَّ قَالَ : وَجَّهْتُ وَجْهِي ، وَقَالَ : وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ، وَقَالَ : وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَقَالَ : وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ ، وَقَالَ : وَإِذَا سَلَّمَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ ، إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ ، وَلَمْ يَقُلْ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ .
اعرج روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے «الله اكبر» کہتے اور «وَجَّهْتُ وَجْهِى» پڑھتے اور «أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» کہتے اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کہتے یعنی ”اللہ نے سن لیا جس نے اس کی تعریف کی اے ہمارے رب! اور سب تعریف تیرے ہی لئے ہیں“ اور کہا «صَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ» اور کہا جب سلام کہتے «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِى مَا قَدَّمْتُ» آخر حدیث تک اور تشہد اور سلام کے درمیان کا ذکر نہیں کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۸۱۳ کا خلاصہ
اس روایت میں اعرج اسی سند سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر وجہت وجہی پڑھتے۔ اس میں بعض الفاظ پچھلی روایت سے مختلف انداز میں آئے، جیسے انا اول المسلمین، رکوع سے سر اٹھاتے وقت سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد، اور سجدے کے الفاظ میں صورت کو اچھا بنانے کا ذکر۔ آخر میں مغفرت کی دعا کا بھی ذکر ہے، مگر تشہد اور سلام کے درمیان ہونے کی صراحت اس روایت میں نہیں آئی۔ اس حدیث کا اصل موضوع نماز کی دعائیں اور الفاظ کا فرق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روایات میں الفاظ کی معمولی تبدیلی محفوظ کی گئی، اور ہمیں اسی امانت کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کا آغاز تکبیر سے بیان ہوا۔
- دعائے استفتاح میں اللہ کی طرف رخ اور توحید کا اقرار ہے۔
- رکوع سے اٹھتے وقت حمد کے الفاظ نقل ہوئے۔
- روایت میں الفاظ کے فرق کو صاف بیان کیا گیا۔
