صحیح مسلم حدیث ۴۸۶ - جنت کا دروازہ نبی صلى الله عليه وسلم کے لیے پہلے کھلے گا
جنت کا دروازہ سب سے پہلے نبی صلى الله عليه وسلم کے لیے کھلے گا
صحیح مسلم : ۴۸۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۶
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آتِي بَابَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَأَسْتَفْتِحُ ، فَيَقُولُ الْخَازِنُ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَأَقُولُ : مُحَمَّدٌ ، فَيَقُولُ : بِكَ أُمِرْتُ ، لَا أَفْتَحُ لِأَحَدٍ قَبْلَكَ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں قیامت کے دن جنت کے دروازے پر آؤں گا اور دروازہ کھلواؤں گا چوکیدار پوچھے گا: تم کون ہو؟ میں کہوں گا: محمد! وہ کہے گا: آپ ہی کے واسطے مجھے حکم ہوا تھا کہ آپ سے پہلے کسی کے لیے دروازہ نہ کھولنا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۸۶ کا خلاصہ
یہ حدیث جنت کے دروازے اور نبی صلى الله عليه وسلم کی خاص فضیلت کے بارے میں ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں قیامت کے دن جنت کے دروازے پر آؤں گا اور دروازہ کھلواؤں گا۔ دروازے کا خازن پوچھے گا کہ آپ کون ہیں؟ آپ صلى الله عليه وسلم فرمائیں گے: محمد۔ پھر خازن کہے گا کہ مجھے آپ ہی کے بارے میں حکم دیا گیا تھا کہ آپ سے پہلے کسی کے لیے دروازہ نہ کھولوں۔ اس حدیث میں الفاظ بہت صاف ہیں، اس لیے اس کا مطلب بھی سیدھا ہے کہ جنت میں داخلے کے معاملے میں نبی صلى الله عليه وسلم کو پہلا شرف عطا ہوگا۔ یہ روایت شفاعت، جنت اور نبی صلى الله عليه وسلم کی بلند شان کو مختصر انداز میں بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنت کا دروازہ سب سے پہلے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے لیے کھولا جائے گا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کو قیامت کے دن خاص عزت اور مقام دیا جائے گا۔
- جنت کا معاملہ اللہ کے حکم اور اجازت سے ہوگا۔
