صحیح مسلم حدیث ۴۸۷ - امت کے لیے محفوظ دعا
نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنی خاص دعا امت کی شفاعت کے لیے بچا رکھی
صحیح مسلم : ۴۸۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۷
حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُوهَا ، فَأُرِيدُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی ایک دعا ہوتی ہے (جس کو اللہ تعالیٰ ضرور قبول کرتا ہے اور باقی دعائیں قبول بھی ہوتی ہیں اور نہیں بھی ہوتی) تو میں چاہتا ہوں کہ اپنی دعا کو چھپا رکھوں قیامت کے دن تک اپنی امت کی شفاعت کے لیے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۸۷ کا خلاصہ
یہ حدیث امت محمدیہ کے لیے نبی صلى الله عليه وسلم کی شفقت کو بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک دعا ہوتی ہے جسے وہ مانگتا ہے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھپا رکھوں۔ اس روایت میں اصل بات نبی صلى الله عليه وسلم کی امت کے لیے فکر ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنی خاص دعا دنیا میں فوری طور پر استعمال نہیں کی، بلکہ اسے آخرت کے دن کے لیے محفوظ رکھا۔ یہاں شفاعت کی حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قیامت کا دن بہت بڑا دن ہوگا، اور نبی صلى الله عليه وسلم اپنی امت کے لیے اللہ کے حضور شفاعت فرمائیں گے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر نبی کو ایک خاص دعا عطا کی گئی جس کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنی دعا امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھی۔
- یہ حدیث نبی صلى الله عليه وسلم کی امت پر شفقت کو ظاہر کرتی ہے۔
