صحیح مسلم حدیث ۴۹۲ - قبول دعا اور امت کی شفاعت
قبول دعا کو امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھنا
صحیح مسلم : ۴۹۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۲
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ يَدْعُو بِهَا ، فَيُسْتَجَابُ لَهُ فَيُؤْتَاهَا ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر پیغمبر کی ایک دعا ہوتی ہے قبول ہونے والی جس کو وہ مانگتا ہے اور قبول ہوتی ہے اور دی جاتی ہے اور میں نے اپنی دعا اٹھا رکھی ہے اپنی امت کی شفاعت کے لئے قیامت کے دن۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ہر پیغمبر کی ایک دعا قبول ہونے والی ہوتی ہے۔ وہ دعا مانگتا ہے، اسے قبول کیا جاتا ہے اور اسے وہ چیز دے دی جاتی ہے۔ پھر نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنی دعا کے بارے میں فرمایا کہ میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھپا رکھی ہے۔ اس بیان میں امت کے لیے بڑی امید ہے، لیکن یہ امید آخرت کی سنجیدگی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ شفاعت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان بے فکر ہو جائے، بلکہ یہ نبی صلى الله عليه وسلم کی اپنی امت کے لیے خاص رحمت اور فکر کا بیان ہے۔ حدیث ہمیں دعا، شفاعت اور قیامت کے دن کی یاد دلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر پیغمبر کو ایک قبول دعا عطا کی گئی، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنی دعا امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھی۔
- قیامت کے دن شفاعت اللہ کے حکم سے ہوگی۔
