صحیح مسلم حدیث ۴۹۱ - شفاعت اور شرک سے بچنے کی شرط
نبی صلى الله عليه وسلم کی شفاعت اور شرک سے پاک موت
صحیح مسلم : ۴۹۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۱
حَدَّثَنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ ، فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”ہر نبی کی ایک دعا ہے جو ضرور قبول ہوتی ہے تو ہر ایک نبی نے جلدی کر کے وہ دعا مانگ لی (دنیا ہی میں) اور میں نے اپنی دعا کو چھپا رکھا ہے قیامت کے دن کے واسطے اپنی امت کی شفاعت کے لیے اور اللہ چاہے تو میری شفاعت ہر ایک امتی کے لیے ہو گی بشرطیکہ وہ شرک پر نہ مرا ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۹۱ کا خلاصہ
یہ حدیث شفاعت کے موضوع کو بہت واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک قبول دعا ہے، اور ہر نبی نے اپنی دعا جلدی مانگ لی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھپا رکھی ہے۔ اس روایت میں ایک اہم شرط بھی بیان ہوئی ہے: یہ شفاعت، اللہ چاہے تو، اس شخص کو پہنچے گی جو امت میں سے ہو اور اس حال میں مرا ہو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو۔ اس لیے یہ حدیث شفاعت کے ساتھ توحید کی اہمیت بھی بتاتی ہے۔ امید بھی ہے، مگر ساتھ ہی شرک سے بچنے کی صاف تنبیہ بھی موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنی قبول دعا امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھی۔
- حدیث میں شفاعت کے لیے شرک پر نہ مرنے کی شرط بیان ہوئی ہے۔
- توحید پر قائم رہنا آخرت کے لیے بنیادی معاملہ ہے۔
