صحیح مسلم حدیث ۴۹۳ - امت کے حق میں مؤخر دعا
نبی صلى الله عليه وسلم کی مؤخر دعا امت کی شفاعت کے لیے
صحیح مسلم : ۴۹۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۳
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ ، فَاسْتُجِيبَ لَهُ ، وَإِنِّي أُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، أَنْ أُؤَخِّرَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر پیغمبر کی ایک دعا ہے جو اس نے مانگی اپنی امت کے لیے پس وہ اس کے لیے قبول کی گئی اور اگر اللہ نے چاہا تو میں نے اپنی دعا چھپا رکھی ہے اپنی امت کی شفاعت کے لیے قیامت کے دن۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۹۳ کا خلاصہ
یہ حدیث بتاتی ہے کہ ہر پیغمبر کی ایک دعا تھی جو اس نے اپنی امت کے لیے مانگی، اور وہ قبول کی گئی۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں، اگر اللہ چاہے، کہ اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے مؤخر رکھوں۔ اس روایت میں دو باتیں خاص طور پر سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ انبیاء علیہم السلام اپنی امتوں کے لیے دعا کرتے تھے۔ دوسری یہ کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنی امت کے لیے آخرت کے دن کو ترجیح دی۔ اس سے نبی صلى الله عليه وسلم کی امت کے لیے محبت اور فکر کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ شفاعت کی حدیث قاری کو آخرت کی تیاری اور نبی صلى الله عليه وسلم کی پیروی کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انبیاء علیہم السلام نے اپنی امتوں کے حق میں دعا کی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنی دعا قیامت کے دن امت کی شفاعت کے لیے مؤخر رکھی۔
- حدیث میں اللہ کی مشیت کا ذکر ہے، اس لیے امید کے ساتھ عاجزی بھی ضروری ہے۔
