صحیح مسلم حدیث ۴۸۸ - قیامت کے دن امت کی شفاعت
ہر نبی کی دعا اور نبی صلى الله عليه وسلم کی امت کے لیے شفاعت
صحیح مسلم : ۴۸۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۸
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ ، وَأَرَدْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ،
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی ایک دعا ضرور قبول ہوتی ہے تو میرا ارادہ ہے اگر اللہ چاہے تو اپنی دعا کو اٹھا رکھوں اور قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کروں۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۸۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ہر نبی کی ایک خاص قبول دعا کا ذکر فرمایا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنی دعا کے بارے میں بتایا کہ میرا ارادہ ہے، اگر اللہ چاہے، کہ میں اپنی دعا کو اٹھا رکھوں اور قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کروں۔ یہ الفاظ بہت نرم اور امید دلانے والے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتاتے ہیں کہ سب کچھ اللہ کے چاہنے سے ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع شفاعت ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنی امت کے لیے آخرت کے دن کی فکر کی اور اپنی خاص دعا کو اسی مقصد کے لیے محفوظ رکھا۔ اس سے امت کو نبی صلى الله عليه وسلم کی محبت اور آخرت کی تیاری دونوں یاد آتی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر نبی کی ایک دعا ضرور قبول ہوتی ہے، جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنی دعا امت کی شفاعت کے لیے مؤخر فرمائی۔
- شفاعت کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ساتھ وابستہ ہے۔
