صحیح مسلم حدیث ۴۸۹ - اسی روایت کی دوسری سند
امت کی شفاعت والی حدیث کی دوسری سند
صحیح مسلم : ۴۸۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۹
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ ، مِثْلَ ذَلِكَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ایک دوسری سند سے بھی یہی روایت مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۸۹ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے اسی مضمون کو دوسری سند سے نقل کرتی ہے۔ متن میں مختصر طور پر بتایا گیا ہے کہ یہی روایت ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں اصل موضوع وہی ہے: ہر نبی کی ایک دعا اور نبی صلى الله عليه وسلم کا اپنی دعا کو قیامت کے دن امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھنا۔ اس طرح کی روایت میں اصل توجہ متن کے مضمون کے ساتھ سند کے ذکر پر بھی ہوتی ہے۔ عام قاری کے لیے آسان الفاظ میں بات یہ ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کی شفاعت والی حدیث کو صرف ایک ہی طریق سے نہیں بلکہ دوسری سند سے بھی بیان کیا گیا۔ اس سے موضوع کی اہمیت مزید سامنے آتی ہے، مگر ہمیں اسی بیان تک محدود رہنا چاہیے جو روایت میں آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت اسی مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کی محفوظ دعا کا تعلق قیامت کے دن امت کی شفاعت سے ہے۔
- حدیث میں سند کا ذکر روایت کو نقل کرنے کے طریقے کو واضح کرتا ہے۔
