صحیح مسلم حدیث ۴۸۵ - نبی صلى الله عليه وسلم کے ماننے والے سب سے زیادہ
نبی صلى الله عليه وسلم کی پہلی شفاعت اور امت کی کثرت
صحیح مسلم : ۴۸۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۵
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، قَالَ : قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوَّلُ شَفِيعٍ فِي الْجَنَّةِ ، لَمْ يُصَدَّقْ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ مَا صُدِّقْتُ ، وَإِنَّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ نَبِيًّا ، مَا يُصَدِّقُهُ مِنْ أُمَّتِهِ ، إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سب سے پہلے جنت میں شفاعت کروں گا اور کسی پیغمبر کو اتنے لوگوں نے نہیں مانا جتنے لوگوں نے مجھ کو مانا اور بعض پیغمبر تو ایسا بھی ہے کہ اس کا ماننے والا ایک ہی شخص ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنی دو فضیلتیں بیان فرمائیں۔ پہلی یہ کہ میں سب سے پہلے جنت میں شفاعت کروں گا۔ دوسری یہ کہ کسی پیغمبر کو اتنے لوگوں نے نہیں مانا جتنے لوگوں نے مجھے مانا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ بھی بتایا کہ بعض پیغمبر ایسے بھی ہوں گے جن کو ان کی امت میں سے صرف ایک شخص نے مانا ہوگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا حق ہونا پیروکاروں کی تعداد پر منحصر نہیں، مگر نبی صلى الله عليه وسلم کو اللہ تعالیٰ نے امت کی کثرت بھی عطا فرمائی۔ اس روایت میں شفاعت، نبی صلى الله عليه وسلم کی امت اور انبیاء کی دعوت کے مختلف نتائج کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو جنت میں پہلی شفاعت کا خاص مقام ملا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کے ماننے والوں کی تعداد قیامت کے دن سب سے زیادہ ہوگی۔
- کسی نبی کے پیروکار کم ہوں تو اس سے اس کی سچائی کم نہیں ہوتی۔
