صحیح مسلم حدیث ۱۸۲۱ - گھر میں نماز اور گھر کی آبادی

گھر میں نفل نماز پڑھنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۲۱

وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا " .

ابن عمر روایت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز پڑھو اپنے گھروں میں اور ان کو قبرستان نہ بناؤ۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۸۲۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل پیغام بہت صاف ہے: مسلمان اپنے گھروں کو نماز سے آباد رکھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔ یہاں عام فہم بات یہ ہے کہ گھر میں بھی عبادت کا حصہ ہونا چاہیے، خاص طور پر نفل نماز۔ مسجد میں نماز کی اپنی جگہ ہے، مگر گھر کو بالکل عبادت سے خالی چھوڑ دینا درست انداز نہیں۔ اس لیے “گھر میں نفل نماز” اور “گھروں کو قبرستان نہ بناؤ” اس حدیث کے اہم الفاظ ہیں۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ عبادت صرف مسجد تک محدود نہ رہے؛ گھر کے ماحول میں بھی اللہ کی بندگی، سکون اور نماز کا رنگ نظر آئے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گھر کو نماز اور عبادت سے خالی نہ چھوڑا جائے۔
  • نفل نماز کا کچھ حصہ گھر میں ادا کرنا پسندیدہ عمل ہے۔
  • گھر کی دینی زندگی کے لیے نماز ایک اہم ذریعہ ہے۔
  • مسلمان کو اپنے گھر میں بھی عبادت کا معمول رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں