صحیح مسلم حدیث ۱۸۲۲ - مسجد کے بعد گھر کا بھی حصہ رکھیں

نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۲۲

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَضَى أَحَدُكُمُ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِهِ ، فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا " .

جابر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص اپنی مسجد میں نماز پڑھے تو تھوڑی سی اپنے گھر کے لئے اٹھا رکھے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس کی نماز سے اس کے گھر میں بہتری کرے گا۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۸۲۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نہایت آسان بات سکھائی ہے۔ جب کوئی شخص اپنی مسجد میں نماز پڑھ لے تو وہ اپنے گھر کے لیے بھی نماز کا کچھ حصہ رکھے۔ حدیث کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس نماز کی وجہ سے گھر میں خیر رکھتا ہے۔ اس سے “نفل نماز گھر میں” کا مطلب سمجھ آتا ہے کہ عبادت کا ماحول گھر میں بھی بننا چاہیے۔ یہ بات صرف رسمی نہیں؛ گھر والوں کے سامنے نماز کا عمل، گھر کی فضا کو دین سے جوڑتا ہے۔ حدیث میں خاص طور پر گھر کے لیے “نصیب” رکھنے کا ذکر ہے، اس لیے اپنی نماز کا کوئی مناسب حصہ گھر میں ادا کرنا اچھا معمول بن سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مسجد میں نماز کے بعد گھر کے لیے بھی نماز کا حصہ رکھا جائے۔
  • گھر میں نماز پڑھنے سے گھر میں خیر کی امید رکھی جاتی ہے۔
  • عبادت کا ماحول صرف مسجد تک محدود نہ ہو۔
  • نفل نماز گھر میں ادا کرنا دینی تربیت کا آسان طریقہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں