صحیح مسلم حدیث ۱۷۰۸ - نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹھ کر نماز
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے؟
صحیح مسلم : ۱۷۰۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۷۰۸
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ " هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ قَاعِدٌ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، بَعْدَ مَا حَطَمَهُ النَّاسُ " .
عائشہ روایت:
عبداللہ بن شقیق نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: کہ ہاں جب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوڑھا کر دیا (یعنی ان کے فکروں سے)۔
صحیح مسلم حدیث ۱۷۰۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع بیٹھ کر نماز پڑھنا ہے۔ عبداللہ بن شقیق نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، جب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوڑھا کر دیا۔ روایت کے ترجمے میں اس کا مطلب لوگوں کے فکروں سے بوڑھا ہونا بیان کیا گیا ہے۔ یہ حدیث بہت مختصر ہے، مگر سوال اور جواب دونوں صاف ہیں۔ بیٹھ کر نماز پڑھنے کی حدیث تلاش کرنے والے کے لیے یہاں اصل بات یہی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی تصدیق کی۔ متن میں اس سے زیادہ تفصیل نہیں، اس لیے وضاحت بھی اسی دائرے میں رہنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی تصدیق فرمائی۔
- صحابہ کرام عبادت کے عمل کے بارے میں براہ راست سوال کرتے تھے۔
- روایت میں اس عمل کو بعد کے زمانے سے جوڑا گیا ہے۔
