صحیح مسلم حدیث ۱۸۲۳ - ذکر والا گھر زندہ گھر ہے
ذکر الٰہی سے گھر زندہ رہتا ہے
صحیح مسلم : ۱۸۲۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۲۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَثَلُ الْبَيْتِ الَّذِي يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ ، وَالْبَيْتِ الَّذِي لَا يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ ، مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ " .
ابوموسیٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس گھر میں اللہ کی یاد ہوتی ہے اور جس گھر میں نہیں ہوتی وہ مثل زندہ اور مردہ کے ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۸۲۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں گھر کے ماحول کو بہت خوب صورت مثال سے سمجھایا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس گھر میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے اور جس گھر میں ذکر نہیں ہوتا، ان دونوں کی مثال زندہ اور مردہ جیسی ہے۔ یہاں “ذکر الٰہی” کا مطلب اللہ کو یاد کرنا ہے۔ حدیث ہمیں یہ نہیں کہتی کہ صرف ایک خاص طریقہ ہی مراد ہے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ گھر اللہ کی یاد سے خالی نہ ہو۔ جب گھر میں اللہ کا ذکر، قرآن کی تلاوت، نماز یا دعا کا معمول ہو تو گھر کی دینی حالت بدلتی ہے۔ “ذکر کی حدیث” تلاش کرنے والوں کے لیے یہ روایت گھر کے بارے میں بہت واضح رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھر میں اللہ کا ذکر دینی زندگی کی علامت ہے۔
- ذکر سے خالی گھر کو حدیث میں مردہ گھر سے تشبیہ دی گئی ہے۔
- گھر والوں کو اللہ کی یاد کا ماحول بنانا چاہیے۔
- عبادت اور ذکر گھر کو دین سے جوڑتے ہیں۔
