صحیح مسلم حدیث ۱۸۲۴ - سورۃ البقرہ پڑھنے والا گھر
گھر میں سورۃ البقرہ پڑھنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۸۲۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۲۴
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ اس لئے کہ شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۸۲۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو باتیں ایک ساتھ آئی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، یعنی گھر کو عبادت اور اللہ کی یاد سے خالی نہ رکھا جائے۔ دوسری بات یہ کہ جس گھر میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے، شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے۔ اس لیے “سورۃ البقرہ گھر میں پڑھنے کی حدیث” بہت زیادہ تلاش کی جاتی ہے۔ حدیث کے الفاظ ہمیں گھر میں قرآن کی تلاوت کی اہمیت بتاتے ہیں، خاص طور پر سورۃ البقرہ کی تلاوت۔ اس روایت سے یہ سمجھ آتا ہے کہ مسلمان اپنے گھر میں قرآن کا معمول رکھے، تاکہ گھر عبادت اور اللہ کی یاد سے آباد رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھر کو عبادت اور قرآن سے خالی نہ رکھا جائے۔
- سورۃ البقرہ کی تلاوت گھر کے لیے خاص خیر کا سبب بنتی ہے۔
- حدیث کے مطابق شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جہاں سورۃ البقرہ پڑھی جائے۔
- گھر میں قرآن پڑھنے کا معمول بنانا چاہیے۔
